17 دسمبر 2011 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں داخلی سلامتی کمیٹی کے سربراہ پرویزسروری نے کہا ہے کہ برطانیہ نے ایران میں اپنے مفادات کا محافظ دفتر کھولنے کی بات کرکے نفسیاتی جنگ شروع کر دی ہے۔

ابنا: پرویز سروری نے پارلیمنٹ نیوز سے گفتگو میں کہا کہ مجلس شورائے اسلامی میں برطانیہ سے تعلقات کی سطح میں کمی لانے کے بل کی منظوری سے عالمی سطح پر برطانیہ کی رسوائي ہوئي ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اپنی شرمندگي پر پردہ ڈالنے کے لئے تہران میں اپنے مفادات کا محافظ دفتر کھولنے کی بات کر رہا ہے اور اس طرح ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ شروع کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا برطانوی حکام کو جان لینا چاہیے کہ ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ خود ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی کیونکہ مجلس شورائے اسلامی برطانیہ کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے بل کو منظور کرنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کے ساتھ لندن کے تعلقات منقطع ہونے کی صورت میں تہران سے زیادہ لندن کو نقصان پہنچے گا اسی بناپر ڈیوڈ کیمرون کی حکومت کبھی بھی ایران کے ساتھ سیاسی تعلقات توڑنے پرراضی نہیں ہوگي۔

ادھر پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علاءالدین بروجردی نے کہا ہے کہ برطانیہ، ایران میں اپنے مفادات کا دفتر کھولنے کی بات کرکے دوبارہ ایران کےساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا چونکہ مجلس شورائے اسلامی نے لندن کے ساتھ تعلقات میں کمی لانے کے بل کی منظوری دی ہے لھذا تہران میں لندن کے سفارتکاروں کی عدم موجودگي کی بنا پر مفادات کا محافظ دفتر قائم نہیں کیا جاسکتا۔............. /169